ہائر ایجوکیشن کمیشن میں اب تک کی سب سےبڑی کرپشن سامنے آ گئی،کتنے ارب کا ٹیکہ لگایا گیا؟چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آ گئے | Tehlka.tv

ہائر ایجوکیشن کمیشن میں اب تک کی سب سےبڑی کرپشن سامنے آ گئی،کتنے ارب کا ٹیکہ لگایا گیا؟چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آ گئے

اسلام آباد(تہلکہ ٹی وی) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن میں 11 ارب 34 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔پاکستانیوں کا ڈیٹا امریکا کو دینے پر چیئرمین نادرا سے وضاحت طلب۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایچ ای سی کی یو نیورسٹیز کو دی جانے والی گرانٹ کی تفصیلات اورنیب کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ادارے میں زیرالتوا مقدمات اورکارکردگی سے متعلق بھی تمام تفصیلات طلب کرلیں۔

اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ہائرایجوکیشن کمیشن کی آڈٹ رپورٹ 2016-17، نیواسلام آباد ایئرپورٹ پرراما ڈیم کی تعمیرمیں بے ضابطگیوں اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ملازمین کو35فیصد میڈیکل الاؤنس سے متعلق آڈٹ پیرا بھی زیر غور لائے گئے۔نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر راما ڈیم کی تعمیرمیں بے ضابطگیوں کے معاملہ پر نیب حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس موقع پر آڈٹ حکام نے ایچ ای سی میں 11 ارب34کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی بڑی جامعات کے ترقیاتی منصوبوں میں بھی ایک ارب 67 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔

آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کامسیٹس انسٹیٹیوٹ آف انفارمشین ٹیکنالوجی لاہور، قائداعظم یونیورسٹی اور کامسیٹس اسلام آباد کے منصوبوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں، کامسیٹس لاہوراور قائداعظم یونیورسٹی کے توسیعی منصوبوں کے فنڈز کمرشل بینکوں میں رکھے گئے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی دنیا کی صف اول کی یونیورسٹیوں میں ہوتی تھی لیکن اب اس کیکارکردگی بہت خراب ہے۔ آن لائن کے مطابق کمیٹی نے پاکستانیوں کا ڈیٹا امریکا کی یہودی کمپنی کو دینے پر چیئرمین نادرا سے وضاحت طلب کرلی۔ شفقت محمود نے کہاکہ میڈیا میں مسلسل سامنے آرہا ہے کہ نادراحکام نے کیمبرج الیٹکانامی کمپنی کو 22کروڑ پاکستانیوں کا ڈیٹا فراہم کردیا ہے یہ ایک سیکیورٹی کا مسئلہ بھی ہے لیکن ہمارے سیکیورٹی کے ادارے بھی خاموشی اختیار کر چکے ہیں۔



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں