ملکی سیاست میں بھونچال۔۔۔۔۔ (ن) لیگ کا آخری سہارا بھی چھن گیا ، حکومتی جماعت کے منجھے ہوئے سیاستدان اچانک کس جماعت میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا ؟شریف فیملی کی نیندیں حرام کر دینے والی خبر آگئی | Tehlka.tv

ملکی سیاست میں بھونچال۔۔۔۔۔ (ن) لیگ کا آخری سہارا بھی چھن گیا ، حکومتی جماعت کے منجھے ہوئے سیاستدان اچانک کس جماعت میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا ؟شریف فیملی کی نیندیں حرام کر دینے والی خبر آگئی

لاہور( تہلکہ ٹی وی) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی عارف نظامی نےکہا کہ آئندہ چند ہفتے مسلم لیگ ن کے لیے بہت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں میاں نواز شریف کی پارٹی میں نقب لگیں گے۔میری اطلاع کے مطابق مسلم لیگ ن کے کچھ 80 لوگوں سے رابطے ہیں ۔

یہ جو نگران حکومت ہے جس سے متعلق نواز شریف نے کہا ہے کہ اس میں ترمیم ہونی چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ جب نگران حکومت آئے گی تو نواز شریف کو جو ابھی اپنی حکومت سے تھوڑی توجہ وغریہ مل رہی ہے یہ بھی ختم ہو جائے گی۔ عارف نظامی نے کہا کہ ”ماروی میمن ٹھٹھہ میں ایک جگہ سے الیکشن بھی لڑنا چاہتی ہیں مگر اس معاملے میں انہیں شک کا فائدہ دے رہا ہوں لیکن یہ جو باسی کڑی میں ابال آیا ہے اس کی کوئی تو وجہ ہے ناں۔۔۔ ایک تو بنیادی وجہ یہ ہے کہ کشتی جب ڈوبنے لگتی ہے تو چوہے اس کو چھوڑ کر دوڑنے لگ پڑتے ہیں۔ اب یہ چوے کہہ لیں یا لوٹے کہہ لیں جنہوں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا ہے اور انہیں ہوا کا رخ بدلنے کا پتہ لگ جاتا ہے۔ ماروی میمن سے میرا تعارف اس طرح ہے کہ ان کے والد صاحب

نثار میمن وزیر اطلاعات تھے اور اس زمانے میں مشرف بڑے ’اِن‘ تھے تو ماروی میمن کو آئی ایس پی آر میں نوکری دینے کیلئے خصوصی عہدہ بنایا گیا کیونکہ یہ کمپیوٹر سافٹ وئیر کی ماہر ہیں۔ انہوں نے ایک سافٹ وئیر بنایا جس کا مقصد یہ تھا کہ میڈیا کے ٹرینڈز کو مانیٹر کر کے جنرل مشرف کو روز ایک رپورٹ بھیجی جائے۔ اس سافٹ وئیر میں ایک سرخ بار ہوتی تھی جن میں وہ اخبار ہوتے تھے جو مشرف کے خلاف تھے، اور ایک سبز رنگ کی جس میں مشرف کے حق میں بولنے والا میڈیا ہوتا تھا جبکہ ایک گرے رنگ جیسی بار ہوتی تھی جس میں معتدل میڈیا تھا۔ تو اس وقت جس اخبار کو میں چلاتا تھا ان کا گراف سب سے اوپر ہوتا تھا، اس زمانے کے سیکرٹری اطلاعات انور محمود کو بھی اس سب کے بارے میں معلوم ہو گا۔ مشرف صاحب نے دو چار دن دیکھا اور پھر انہیں سمجھایا گیا کہ اخباروں کو گرافکس کے ذریعے تو نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد کچھ ذاتی قسم کے مسئلے پر ماروی میمن کی ڈی جی آئی ایس پی آر سے لڑائی ہو گئی تو وہاں سے انہوں نے چھوڑ دیا۔ پھر مشرف کا سنگھاسن ڈولا

اور حکومت ختم ہوئی تو ماروی میمن نے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) میں شاپنگ شروع کی۔ پی ٹی آئی میں انہوں نے کوئی عہدہ بھی مانگا تو انہوں نے کہا کہ آپ آ جائیں پھر دیکھیں گے۔ پی ٹی آئی میں بندوں کا شامل ہونا اتنا مشکل نہیں جتنا خواتین کا ہے کیونکہ وہاں شیریں مزاری جیسی ایسی ایسی خواتین بیٹھی ہوئی ہیں کہ فوزیہ قصوری کو بھی باہر کر دیا تو یہ کس باغ کی مولی تھیں۔ پھر یہ میاں نواز شریف سے ملیں تو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کا خیال رکھیں گے۔ انہوں نے ان کو ناصرف ممبر بنایا بلکہ ان کو اہم عہدہ بھی سونپ دیا لیکن اب ان کو ہر چیز میں کوئی خرابی نظر آنی شروع ہو گئی ہے اور لوگ اسے چوہدری نثار علی خان والے سینڈروم سے مماثلت دیتے ہیں۔“عارف نظامی نے اس موقع پر ماروی میمن کی جانب سے کی گئی ٹویٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری نثار علی خان اور اسحاق ڈار کوئی ایسی شخصیت نہیں ہیں کہ وہ ان کے بارے میں ٹویٹس کریں بلکہ اسحاق ڈار کیساتھ تو مبینہ طور پر ان کی ناراضگی بھی ہے اور لین دین کا مسئلہ ہے، ماروی میمن ٹویٹس میں اپنے لئے بول رہی ہیں۔



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں