ایون فیلڈ ریفرنس:مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف آج اسلام آباد میں کیا بڑی کارروائی ہونے جا رہی ہے ، جانیے | Tehlka.tv

ایون فیلڈ ریفرنس:مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف آج اسلام آباد میں کیا بڑی کارروائی ہونے جا رہی ہے ، جانیے

اسلام آباد(تہلکہ ٹی وی) سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت آج دوبارہ ہوگی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سماعت کریں گے اور آج کی کارروائی کے دوران جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءکے بیان پر وکلا صفائی جرح کا آغاز کریں گے۔

گزشتہ روز سماعت کے دوران واجد ضیاء نے اپنا بیان قلمبند کرایا تھا اور بیان مکمل ہونے کے بعد عدالت نے سماعت آج دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کی تھی۔گزشتہ روز سماعت پر نیب کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف قطری شہزادے کے خط سمیت تین اضافی دستاویزات کو بطور شواہد جمع کرانے کی درخواست کی جس پر عدالت نے اضافی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنالیا تھا۔اس سے قبل احتساب عدالت نے 22 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران نواز شریف اور مریم نواز کی ایک ہفتے کے لئے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کردی تھی۔نیب ریفرنسز کا پس منظر۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں

سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔نیب کی جانب سے ان تینوں ریفرنسز کے ضمنی ریفرنسز بھی احتساب عدالت میں دائر کیے جاچکے ہیں۔یاد رہےشریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرلیا گیا جب کہ احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے قطری خط اور 3 اضافی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست منظور کرلی۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی اور آج کی کارروائی کے دوران جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کیا گیا۔سماعت کے دوران نیب نے قطری شہزادے کے خط اور تین اضافی دستاویزات کو بطور شواہد پیش کرنے کی درخواست جمع کرائی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے قطری شہزادے کے سپریم کورٹ کو لکھے گئےخط ، برٹش ورجن آئی لینڈ اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کے خط کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنادیا۔نیب نے استدعا کی تھی کہ 17 جولائی 2017 کو قطری شہزادے حمد بن جاسم کا واجد ضیا کو لکھا گیا خط، برٹش ورجن آئی لینڈ کے اٹارنی جنرل آفس کا واجد ضیاء کو لکھا گیا خط اور واجد ضیاء کو برٹش ورجن آئی لینڈ سے رابطے کا اختیار دینے کا خط پیش کرنا چاہتے ہیں۔



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں