قصور کا المیہ | Tehlka.tv

صوبائی دارالحکومت لاہور کے نواح میں قصور کی شہرت کے کئی حوالے رہے ہیں۔ بابا بلھے شاہ کا قصور‘ ملکہ ترنم نورجہاں کی جائے پیدائش بھی قصور کا ایک اہم حوالہ رہا۔ پھر عمر بھر قانون کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے لیے برسرپیکار رہنے والے میاں محمود علی قصوری ایڈووکیٹ۔ (ان کے صاحبزادے خورشید محمود قصوری ڈکٹیٹر کی کابینہ کا حصہ نہ بنتے) تو ہم انہیں بھی اسی فہرست میں شامل کر لیتے۔ لیکن وہ جو اقبال فرما گئے ؎

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو

پھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو

میاں محمود علی قصوری 1970ء میں بھٹو صاحب کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ ان کی عمر بھر کی کمائی ڈکٹیٹر شپ کی مزاحمت تھی۔ دائیں‘ بائیں کی نظریاتی کشمکش میں قصوری صاحب بائیں بازو میں شمار ہوتے لیکن زیرعتاب دائیں بازو کے رہنمائوں اور کارکنوں کے مقدمات بھی مفت لڑتے۔ ان مقدمات کی پیروی کے لیے لاہور سے باہر آنا جانا بھی اپنے پلّے سے ہوتا۔ عدالتی کاغذات کی تیاری کے لیے بھی ایک پیسہ لینے کے روادار نہ ہوتے۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد ”نئے پاکستان‘‘ میں بھٹو صاحب کی فسطائیت کے ساتھ چلنا مشکل تھا‘ چنانچہ دو چار گام کے بعد علیحدگی اختیار کر لی اور ایئر مارشل اصغر خان کے قافلۂ جمہوریت کا حصہ بن گئے۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند محمود علی قصوری‘ سید مودودیؒ کے ذاتی احباب میں بھی نمایاں تھے۔

اپنے دور طالب علمی ہی سے ہنگامے اٹھانے والے احمد رضا کے خاندان کا تعلق بھی قصور ہی سے ہے۔انہوں نے بھی 1970ء کا الیکشن ذوالفقار علی بھٹو کے ٹکٹ پر جیتا۔ بھٹو نے ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑ دینے کا اعلان کیا‘ تو احمد رضا نے ”بغاوت‘‘ میں لمحہ بھر تاخیر نہ کی ‘تن کر کھڑا ہو گیا اور اعلان کیا‘ میں ڈھاکہ ضرور جائوں گا کہ پاکستان ٹوٹنے سے بچ جائے اور یہ بھی کہ میری ٹانگیں پاکستان سے زیادہ قیمتی نہیں۔ پھر اپنے والد نواب محمد احمد خاں کے قتل کیس میں بھٹو کو ”بڑا ملزم‘‘ نامزد کرنے اور ضیاء الحق کے مارشل لاء میں انہیں تختۂ دار تک پہنچانے کے حوالے سے شہرت پائی۔ بڑھاپے میں مشرف کو پیارے ہو گئے اور اب اس کی پارٹی سے بھی نکالے ہوئے ہیں۔ 

بابا بلھے شاہ‘ ملکہ ترنم نورجہاں اور میاں محمود علی کے شہر قصور کی ”وجۂ شہرت‘‘ اب بدقسمت زینب ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ‘جب نوعمر لڑکوں سے زیادتی اور ان کی ویڈیو فلمیں بنانے کے حوالے سے بھی قصور نے ”عالمی شہرت‘‘ حاصل کی تھی۔ 

ہوس کا نشانہ بننے اور پھر قتل ہونے والی زینب اس نوعیت کا پہلا المیہ نہیں‘ ایک سال میں دس گیارہ معصوم بچیاں اسی طرح مار دی گئیں‘ اور قاتل (یا قاتلوں) کا نشان تک نہ ملا۔

اور اب دو روز سے قصور ہنگاموں کی زد میں ہے۔ آغاز گزشتہ روز ایک نوزائیدہ سیاسی مذہبی جماعت کے 200 کے قریب کارکنوں کے مظاہرے سے ہوا۔ ڈی سی او آفس پر حملہ آوروں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے براہ راست فائرنگ کر دی۔ ہسپتال منتقل کئے جانے والے پانچ زخمیوں میں سے دو جان کی بازی ہار گئے۔ اب ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بھی زد میں تھا۔ ایمرجنسی اور گائنی وارڈز پہلا نشانہ تھے۔ پھر ہنگامے سارے شہر میں پھیل گئے ۔ صدر پولیس اسٹیشن‘ بار لائبریری‘ کچہری چوک میں دکانیں اور درجنوں گاڑیاں نذر آتش ہو گئیں۔

مقتولہ و مظلومہ زینب کے والد امین انصاری پاکستان عوامی تحریک کے کارکن تھے‘ ڈاکٹر طاہر القادری اس رشتے سے زینب کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے پہنچے۔ ڈی پی او کی اس کے منصب سے معطلی اور فائرنگ کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کے بعد‘ دوسرے دن پولیس غائب تھی اور شہر پھر ہنگاموں کی زد میں تھا۔ امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق پشاور سے بھاگم بھاگ قصور پہنچے۔ مقتولہ زینب کے والدین سے اظہار تعزیت سے قبل انہوں نے مظاہرین سے خطاب ضروری سمجھا۔ یہ توقع بیجا نہ تھی کہ احتجاج کو جاری رکھنے لیکن تشدد پر اُترے ہوئے مظاہرین کو پرامن ہونے کی تلقین کریں گے‘ لیکن ان کا اعلان تھا ‘قاتلوں کی پھانسی تک جدوجہد جاری رہے گی۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف صبح پانچ بجے زینب کے سوگوار لواحقین سے تعزیت کے لیے قصور پہنچے تھے‘ امیر محترم کا کہنا تھا‘ تعزیت دن کے اجالے میں ہوتی ہے‘ شب کے اندھیرے میں تو چھاپہ ہوتا ہے۔ عوام سے ان کا کہنا تھا ظلم و جبر کے اس نظام کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے میرے قافلے میں شامل ہو جائو۔ اخبار نویسوں سے گفتگو میں اعلان کیا ‘ اب شہبازشریف کا گریبان ہو گا اور میرا ہاتھ…ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال آج پھر زد میں تھا۔ ڈاکٹر اور نرسوں نے جان بچانے کے لیے گھروں کی راہ لی۔ مریضوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے نکال لیا گیا۔ ہسپتال تو دو ملکوں کے درمیان حالتِ جنگ میں بھی ”پِیس زون‘‘ قرار پاتے ہیں‘ امیرِ محترم مظاہرین کو ہسپتال پر حملہ نہ کرنے کی تلقین ہی کر دیتے۔ 

وزیراعلیٰ شہبازشریف صوبے میں انفراسٹرکچر اور تعمیر و ترقی کے دیگر منصوبوں کی برق رفتار تکمیل کے حوالے سے ”عالمگیر شہرت‘‘ حاصل کر چکے‘ ہمارے چینی دوست اسے ”پنجاب سپیڈ‘‘ (یا شہبازسپیڈ) کا نام دیتے ہیں۔ صوبے میں صحت کی سہولتوں کے حوالے سے بھی ان کی کارکردگی قابل ذکر ہے۔ ایک روز قبل انہوں نے رائے ونڈ شہر کے تحصیل ہیڈ کوارٹر میں 100 بستروں کے نئے بلاک کا افتتاح کیا‘ جدید ترین سہولتوں سے آراستہ یہ نیا بلاک چار ماہ میں مکمل ہو گیا۔ وہ لاہور کے نواحی علاقوں میں اسی طرح کے چار مزید ہسپتالوں کے قیام کا ذکر بھی کر رہے تھے جس سے شہر کے ہسپتالوں پر دبائو میں کمی آئے گی۔ جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں صحت کی نئی سہولتوں کا تذکرہ بھی ان کی تقریر کا اہم حصہ تھا۔ چوہدری پرویز الٰہی کے دور کی ریسکیو سروس 1122 میں توسیع بھی اس حوالے سے قابلِ ذکر ہے۔ تعلیم کے میدان میں پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ بھی برگ و بار لا رہی ہے لیکن شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بھی ”ریاست‘‘ کی ذمہ داریوں میں اہم ترین ہے۔ پولیس کلچر میں تبدیلی‘ خادم پنجاب کا قدیم نعرہ ہے۔ روایتی پولیس اور ایلیٹ فورس تو پرانی ہو چکیں‘ حالیہ برسوں میں ”ڈولفن‘‘ پی آر یو (پولیس رسپانس یونٹ) اور اے آر ایف (اینٹی رائٹس فورس) امن و امان کے حوالے سے نئے اقدامات ہیں۔ سیف سٹی پراجیکٹس بھی شہریوں کے تحفظ اور مجرموں کی سرکوبی کا موثر ذریعہ ہیں۔ ہنگاموں سے نمٹنے کے لیے اے آر ایف ابھی لاہور کی حد تک ہے‘ قصور میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے تو اسے لاہور سے وہاں پہنچنے میں کتنی مدت درکار تھی؟

معاشرے میں تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان موجودہ حکومت کے لیے ہی نہیں‘ تمام سیاسی جماعتوں اور قوم کے سبھی ارباب فکرونظر کے لیے باعث تشویش ہونا چاہیے۔ چند ہفتے پہلے کی بات ہے‘ ملتان کے وکلاء نئے جوڈیشل کمپلیکس میں ضروری سہولتوں کے فقدان پر احتجاج کرتے ہوئے‘ آپے سے باہر ہو گئے اور کھڑکیاں‘ دروازے‘ روشندان‘ الماریاں‘ میز اور کرسیاں سب کچھ برباد کر دیا اور پھر اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ یہاں تک کہ چیف صاحب کو ملتان جا کر ان سے اظہار یکجہتی کرنا پڑا ہے۔ ملتان ہائی کورٹ میں اس سے پہلے ایک معزز جج کی وکلاء کے ہاتھوں توہین کا واقعہ بھی ہو چکا تھا۔

زینب کے المیے نے پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑدیا تھا۔ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کو اس موقع پر ڈیرہ اسماعیل خاں میں شریفاں بی بی کو برہنہ کر کے سرِعام گھمانے کا المیہ بھی یاد آیا۔ شامی صاحب مردان کی عبدالولی خاں یونیورسٹی میں نوجوان مشال خاں کے المناک قتل کو بھی یاد کر رہے تھے ؎

وہ درد جاگ اٹھے لے کے پھر سے انگڑائی



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں