فتوحات اکبر | Tehlka.tv | Urdu News

لاہور (تہلکہ ٹی وی )مغل بادشاہ نے حکومت کے جنون میں بے گناہ انسانوں کا خون بہایا ، وہ صرف اپنی سلطنت کی وسعت میں دلچسپی رکھتا تھا۔

 مغل بادشاہ اکبر نے ہمسایہ ریاستوں پر حملے کر کے انہیں اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ فتوحات کے بعدا کبر نے اپنی رعایا سے فیاضانہ سلوک کیا۔ گونڈوں کی ملکہ ورگاوتی کو شکست دینے اور اس کے خزانہ پر قبضہ کرنے کے بعد اکبر نے چتوڑ کی طرف توجہ کی۔ جونہی اکبر اپنی فوجیں لے کر چتوڑ کی طرف روانہ ہوا۔ چتوڑ کا رانا ادوے سنگھ وہاں سے بھاگ نکلا۔ اس پر جمیل راٹھور نے چتوڑ کی حفاظت کا ذمہ لیا۔ اکبر کی تمام توپیں چتوڑ کے قلعہ کو فتح کرنے میں ناکام رہیں۔

ایک دن اکبر نے دیکھا کہ ایک پرشکوہ انسان ان شگافوں کی مرمت کر ارہا ہے جو گولہ باری کی وجہ سے قلعہ میں پیدا ہو گئے تھے۔ اکبر نے شست لگائی پر شکوہ انسان زمین پر تھا۔ تھوڑی دیر بعد شہر کے بعض حصوں سے آگ کے شعلے اُٹھتے دکھائی دیئے۔ راجہ بھگوان داس نے بتایا کہ جوہر کی رسم ادا ہو رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ اکبر نے جس شخص کا نشانہ کیا تھا وہ جمیل راٹھور تھا۔ چتوڑ کے لئے راجپوت سپاہیوں نے بہادری سے لڑنا شروع کیا ۔ مرد اور عورتیں ایک ہی صف میں حملہ آوروں کا مقابلہ کر رہی تھیں۔آٹھ ہزار بہادر راجپوت چتوڑ کی حفاظت میں کام آتے۔

اکبر پر وہی وحشت سوار ہوئی جو کبھی سکندر یونانی کو گھیر لیتی تھی۔اکبر کے حکم سے چتوڑ میں قتل عام کیا گیا۔ راجپوتوں کی بہادری سے اکبر اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے جمیل اور اس کے نوجوان بیٹے کے بت بنوا کر دہلی میں نصب کرائے۔ اکبر اپنی سلطنت کو ایک سمندر سے دوسرے سمندر تک پھیلانا چاہتا تھا۔ اب اس نے مغرب کا رخ کیا۔ سمندر اور اس کی سلطنت کے درمیان گجرات حائل تھا ۔گجرات کی راجد ھانی احمد آباد تھی۔ اب اکبر گجرات کی طرف روانہ ہوا۔ گجرات پر قبضہ کرنے میں اُسے زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرتا پڑا۔ اکبر نے پہلی مرتبہ اس سمندر کو دیکھا جو ہندوستان اور یورپ کو ملاتا ہے۔

اس کے ذہن میں مغل بحریہ بنانے کا خیال نہ آیا۔ اکبر سمندر کی موجوں کو گن رہا تھا کہ ا براہیم حسین میرزا نے سرنال میں بغاوت کر دی۔ اس بغاوت کو دبانے اور میرزا کو شکست دینے کے بعد اکبر نے سورت کی بندر گاہ کا محاصرہ کیا۔ جب اُسے معلوم ہوا کہ سورت کی مدد پرتگیزی کر رہے ہیں تو اس نے پرتگیزوں سے صلح کے لئے بات چیت کی۔ پرتگیزی وائسرائے نے انطونیو کو اکبر سے تصفیہ کے لئے بھیجا۔ سورت نے ہتھیار ڈال دیئے۔ پرتگیزوں سے اکبر نے اپنا تعلق اس طرح قائم کیا۔وہ پرتگیزوں سے ان کے مذہب اور ان کی معاشرت کے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا۔اکبر آگرہ پہنچا۔ گجرات میں بغاوت ہو گئی۔

اکبر پھر گجرات کی طرف روانہ ہوا۔ دوسری مہم میں اکبر نے فوجی قابلیت اور بہادری کا ثبوت دیا۔ ایک ایک دن میں پچاس پچاس میل کا سفر کیا۔ آگرہ سے احمد آباد میں وہ گیارہ دنوں میں پہنچ گیا۔ چھ سو میل ! اکبر کے ہمراہ صرف تین ہزار سپاہی تھے۔ محمد حسین میرزا بیس ہزار سپاہیوں سمیت اکبر کے خلاف اٹھا۔جو نہی اُسے شاہی فوجوں کی آمد کا پتہ چلا تو میرزا چلایا’ ہمارے جاسوسوں نے اطلاع دی ہے کہ اکبر چودہ دن پہلے فتح پور سیکری میں تھا۔‘ انہیں اکبر کی آمد کا یقین نہیں تھا۔ اکبر نے ایک شدید حملہ کیا۔ میرزا کی فوج کو شکست ہوئی۔



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں