صحافیوں اور سماجی کارکنان کیلئے سیکیورٹی ایپ متعارف | Tehlka.tv

صحافیوں اور سماجی کارکنان کیلئے سیکیورٹی ایپ متعارف

ایڈورڈ سنوڈن نے فریڈم آف پریس فاؤنڈیشن اور گارجین پروجیکٹ کے ساتھ مل کر ایک ایسی ایپلی کیشن متعارف کرادی جو خصوصی طور پر صحافیوں اور سماجی کارکنان کے لیے بہترین سیکیورٹی ایپ سمجھی جا رہی ہے۔

تہلکہ ٹی وی)ایڈورڈ سنوڈن نے ان اداروں کے ساتھ مل کر ’ہیون‘ نامی ادارے کے تحت اسی نام سے ایک سیکیورٹی ایپ متعارف کردی، جو سائب سیکیورٹی کے لیے اب تک سب سے مستند اور بہترین ایپلی کیشن سمجھی جا رہی ہے۔’ہیون‘ نامی یہ ایپ کسی بھی اینڈرائڈ فون میں ڈاؤن لوڈ کیے جانے کے بعد صارف کی سیکیورٹی کو یقینی بناتی ہے۔’ہیون‘ ایپ نہ صرف صارف کو اپنے ارد گرد ہونے والی سائبر ہیکنگ سے متعلق خبردار کرے گی، بلکہ اگر کوئی صارف کے موبائل یا دیگر انٹرنیٹ ڈیٹا سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہوگا تو بھی یہ ایپ صارف کو خبردار کردے گی۔

’ہیون‘ نامی ادارے کی جانب سے پیش کی گئی اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کیے جانے کے بعد صارف اپنے ارد گرد گونجنے والے آواز، روشنی اور دیگر برقی چیزوں سے متعلق بھی معلومات حاصل کرسکے گا۔یہ ایپلی کیشن صارف کے ارد گرد کے آواز اور روشنی کے مشکوک ہونے کے بعد نوٹی فکیشن کی صورت میں صارف کو آگاہ کرے گی۔یہی نہیں بلکہ اس ایپلی کیشن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صارف کے تمام لیپ ٹاپ، کمپیوٹر اور دیگر اسمارٹ آلات کو ہیک کیے جانے کی کوشش سے متعلق بھی صارف کو آگاہ کرے گی۔یہ ایپ نہ صرف ہیکرز بلکہ خفیہ اداروں، حکومت اور دیگر افراد کی جانب سے کسی بھی صارف کے انٹرنیٹ اکاؤنٹس اور اسمارٹ آلات تک رسائی کی کوشش کرنے والوں سے متعلق بھی صارف کو آگاہ کرے گی۔

اس ایپ کو فوری طور پر صرف اینڈرائڈ فونز کے لیے پیش کیا گیا ہے، جب کہ یہ ایپ آئی فون پر کام نہیں کرے گی، ابھی اس ایپ کا مکمل ورژن متعارف نہیں کرایا گیا، اسے آزمائشی بنیادوں پر پیش کیا گیا ہے۔’ہیون‘ ایپ کو گوگل پلے سے بھی ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔خیال رہے کہ ایڈورڈ سنوڈن امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اور نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے سابق اہلکار ہیں، انہوں نے 4 سال قبل انکشاف کیا تھا کہ سی آئی اے پوری دنیا کے لوگوں کے سائبر ڈیٹا پر نظر رکھتا ہے۔ایڈورڈ سنوڈن نے 2013 میں امریکی اخبارات کو دیے گئے دستاویزات میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے دنیا کے بھر کے لوگوں کی انٹرنیٹ کے ذریعے نگرانی کرتے ہیں۔



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں