اب بس کر دیں نا! | Tehlka.tv

تحریر:روف کلاسرا

اسلام آباد کلب میں نیوجرسی‘ امریکہ سے آئے دوست المان چوہدری اور ان کے بھائی ارسلان چوہدری‘ جن کا تعلق لاہور سے ہے، کے ساتھ کھانا کھا کر باہر نکلا تو پارکنگ کے قریب کسی نے میرا نام پکارا۔

مڑ کر دیکھا تو ایک صاحب نظر آئے۔ میں نے انہیں پہچانا نہیں تو وہ بولے: میں فلاں ریٹائرڈ کرنل ہوں، کبھی نیب پنڈی کا ڈی جی ہوا کرتا تھا اور آپ سے ایک دفعہ وہیں ملاقات ہوئی تھی۔ پھر جب انہوں نے اپنا نام بتایا تو مجھے یاد آ گیا۔ کہنے لگے: آپ نے مجھ پہ بہت تنقید کر لی، اب بس کر دیں نا۔

میں نے حیرانی سے پوچھا: کس بات کی بس کر دیں؟ وہ بولے: آپ اکثر ٹی وی شوز میں مجھ پر تنقید کرتے ہیں۔ بس کافی ہو گیا نا۔ جانے دیں۔

میں ان کی معصومت پر ہنس پڑا۔ میں سمجھا شاید وہ مذاق کر رہے ہیں۔ لیکن جلد ہی احساس ہوا کہ وہ واقعی سنجیدہ ہیں۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ چھ برس قبل جب میں نے نیشنل پولیس فائونڈیشن میں چار ارب روپے کے سکینڈل کا انکشاف کیا تھا تو اس پر سپریم کورٹ نے سوئو موٹو لیا تھا۔ اس سکینڈل میں ن لیگ کے ایم این اے انجم عقیل ملوث تھے اور ان کا ساتھ دینے والوں میں اس وقت کے پولیس فائونڈیشن کے ایم ڈی افتخار خان بھی شامل تھے، جو سپیکر ایاز صادق کے قریبی رشتے دار تھے۔ جونہی یہ سکینڈل سامنے آیا تو سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ اس پر کارروائی کر کے رپورٹ عدالتِ عظمیٰ میں جمع کرائی جائے۔ اس پر ایف آئی اے کے ایک ایماندار اور اچھے افسر ظفرقریشی کو انکوائری افسر لگایا گیا۔ ظفر قریشی کے ایک بھائی بھی ایاز صادق کے رشتہ دار تھے لہٰذا ان سب نے مل کر ظفر قریشی پر دبائو ڈالا کہ وہ اس سکینڈل میں افتخار خان کو کلین چٹ دیں۔ سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ظفر قریشی اگر ایاز صادق کے رشتہ دار کو کلین چٹ دیتے تو اس کا مطلب انجم عقیل کو بھی کلین چٹ دینا تھا۔ وہ ڈٹ گئے جس پر سب رشتہ دار ان سے ناراض ہوگئے لیکن ظفر قریشی نے پروا نہیں کی۔ اس دوران افتخار خان کو چپکے سے باہر بھجوا دیا گیا کہ جب حالات بہتر ہوں گے تو لوٹ آنا، ہم سنبھال لیں گے۔ کچھ عرصے بعد وہ لوٹے تو اس وقت نواز لیگ کی اپنی حکومت آ چکی تھی اور ایاز صادق صاحب سپیکر بن چکے تھے۔ چوہدری نثار علی خان وزیر داخلہ بن گئے اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ انجم عقیل خان ہر وقت چوہدری نثار کے دائیں بائیں نظر آنے لگے، پھر سب بھول گئے کہ نیشنل پولیس فائونڈیشن کا کوئی سکینڈل بھی آیا تھا۔

اس سے پہلے جب سپریم کورٹ کی کارروائی کے بعد‘ ایف آئی اے نے انجم عقیل کو بلایا تو انہوں نے فوراً تسلیم کر لیا اور ظفر قریشی کو بیان حلفی تک لکھ کر دے دیا کہ لگ بھگ چار ارب روپے کا جو بھی فراڈ ہوا ہے‘ وہ سب واپس کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے اعتراف کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے سے ڈیل بھی سائن کر لی۔ اس پر وہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تو سپریم کورٹ نے کیس نیب کو بھیج دیا کہ اُن سب کرداروں کے خلاف کارروائی کی جائے جو نیشنل پولیس فائونڈیشن سکینڈل میں ملوث ہیں۔ 

یہ کیس نیب کے ڈی جی‘ ریٹائرڈ کرنل کے پاس پہنچا کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مقدمہ کو آگے بڑھائیں۔ کچھ عرصے بعد انہی کرنل صاحب سے کسی خبر کے حوالے سے میری ملاقات ہوئی۔ میں ان دنوں مضاربہ سکینڈل میں ملوث قاری احسان‘ جس نے چالیس پچاس ہزار لوگوں کے ساتھ پچیس ارب روپے کا فراڈ کیا تھا، پر کام کر رہا تھا اور نیب نے اُن دنوں اس سکینڈل پر کارروائی شروع کی ہوئی تھی۔ پتا چلا تھا کہ مولوی احسان کے گیراج سے نیب نے پچاس کروڑ روپے کیش برآمد کیے تھے اور اس کے ساتھ پلی بارگین کر کے اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں مزید تحقیق کے لیے مجھے نیب سے ملنا تھا۔ مزید تحقیق پر علم ہوا کہ مولوی احسان نے پچیس ارب روپے لوٹنے کے بعد نیب سے صرف پچاس کروڑ روپے میں ڈیل کر لی تھی۔ خیر اس خبر پر رولا پڑگیا کہ پچیس ارب روپے کے ملزم کو پچاس کروڑ روپے لے کر پنڈی نیب نے کیسے چھوڑ دیا۔ اس کو دوبارہ پکڑ لیا گیا۔

میری ملاقات ان کرنل صاحب سے ہوئی تو جہاں مضاربہ سکینڈل پر بات ہوئی‘ وہیں میں نے پوچھ لیا کہ جناب انجم عقیل کے چار ارب روپے سکینڈل پر کیا تحقیقات ہوئی ہیں۔ کرنل صاحب ہنس پڑے اور کہاکہ میں نے سارا کیس، پوری فائل پڑھی ہے۔ مجھے تو کہیں کوئی بدعنوانی نظر نہیں آ رہی اور نہ ہی اس میں انجم عقیل کا کوئی ہاتھ نظر آ رہا ہے۔

میں حیرانی سے کرنل صاحب کو دیکھتا رہا کہ انجم عقیل کے خلاف تو سیکرٹری داخلہ نے انکوائری رپورٹ کی تھی اور سپریم کورٹ نے اس پر ایکشن لیا تھا۔ ایف آئی اے کے سامنے انجم عقیل نے سب چیزوں کا خود اعتراف کر لیا تھا اور چار ارب روپے واپس کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی اور یہاں نیب کے افسر صاحب فرما رہے ہیں کہ انہیں انجم عقیل کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ 

میں نے پوچھا کہ گڑبڑ کہاں ہے۔ تو کیا انجم عقیل بیوقوف تھا جس نے ایف آئی اے کو لکھ کر دیا کہ وہ چار ارب روپے کا نقصان پورا کرے گا‘ نیشنل پولیس فائونڈیشن کے جن پلاٹس، جائیداد اور پراپرٹی پر قبضہ کیا تھا وہ واپس کرے گا۔ پھر ایف آئی اے نے اپنی پوری رپورٹ بنائی تھی۔ ظفر قریشی نے تمام تر رشتہ داریاں خراب کر کے یہ انکوائری کی تھی‘ جس کی معافی انہیں آج تک نہیں ملی، اور آپ فرما رہے ہیں کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ میں نے مزید کہا کہ اس سکینڈل کی انکوائری رپورٹ میرے پاس موجود ہے جس میں تمام ثبوت دیئے گئے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔

انہوں نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور کہا کہ میری تحقیقات تو یہی کہتی ہیں۔ میں جواباً ہنس پڑا کہ جی بالکل آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ کون بے قصور ہے۔ صاف لگ رہا تھا کہ انجم عقیل خان نے یہاں بھی وہی حربہ آزمایا تھا جو وہ نواز لیگ کے لیڈروں پر آزماتے چلے آ رہے تھے۔

اس دوران پتا چلا کہ کرنل صاحب‘ ایک بہت بڑی کنسٹرکشن کمپنی کے خلاف بھی اس طرح کے سکینڈلز کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ وہ کنسٹرکشن کمپنی بہت بڑے فراڈ میں ملوث تھی۔ہر دوسرے سکینڈل میں اس کمپنی کا نام آتا تھا۔

کچھ دنوں بعد وہ کرنل صاحب ریٹائرڈ ہوگئے اور عامر متین یہ خبر لے کر آئے کہ موصوف نے اُس کمپنی میں ملازمت کر لی ہے جس کمپنی کے سکینڈلز کی وہ تحقیقات کرتے آئے تھے۔ دو تین دفعہ عامر متین نے یہ بات اپنے شو میں بھی کی کہ کیسے نیب کے افسر بڑے بڑے سکینڈلز میں ملوث لوگوں کو بچا کر انہی اداروں، مافیاز اور کمپنیوں میں ملازمت کر لیتے ہیں جبکہ میں نے شو میں کہا تھا کہ کیسے وہی کرنل صاحب انجم عقیل کے اپنے ایف آئی اے کو لکھ کر دئیے گئے بیانات میں اعترافات، سپریم کورٹ، ایف آئی اے اور وزارت داخلہ کی انکوائری رپورٹس کے بعد بھی انجم عقیل کو بے قصور سمجھتے ہیں۔

اب وہی کرنل صاحب مجھے کلب میں کہہ رہے تھے کہ اب بس کر دیں نا۔ میں نے کہا کہ کیا یہ بات غلط ہے؟ کیا آپ اس بلڈر اور کنسٹرکشن کمپنی کے خلاف تحقیقات نہیں کر رہے تھے ریٹائرمنٹ بعد آپ نے جس میں ملازمت کر لی تھی؟

وہ بولے: بالکل کی تھی لیکن کچھ ماہ ہی ملازمت کی تھی۔ تو کیا ہوگیا۔ بس اب جانے دیںنا۔

میں ہکا بکا کھڑا دیکھتا رہا۔ اربوں روپے کے فراڈ میں ملوث لوگوں کو کلین چٹ دے کر اور فوراً ان کی نوکری کر کے‘ اب موصوف فرما رہے تھے کہ بس اب جانے دیں نا۔ ان کے نزدیک یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں تھا جس پر کوئی بات ہوتی، یا ٹی وی شو اس کا ذکر ہوتا۔

اب آپ کو سمجھ آنی چاہیے کہ وزیراعظم نواز شریف ہوں، ان کا خاندان ہو یا ان کے کارندوں سے لے کر نیب کے کرنل صاحب تک‘ سب یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اندھا دھند مار دھاڑ کر کے دنیا کے پانچ براعظموں میں جائیدادیں بنا لی ہیں یا کسی کنسٹرکشن کمپنی کے خلاف بڑے بڑے سکینڈلز کی تحقیقات کرتے کرتے اسی کمپنی کی نوکری کر لی تھی تو کون سی قیامت آ گئی تھی۔ اب بس کر دیں نا…!



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں