ٹی بی کی شناخت دنوں میں نہیں گھنٹوں میں ممکن | Tehlka.tv

ٹی بی کی شناخت دنوں میں نہیں گھنٹوں میں ممکن

تپ دق کے مریضوں کے پیشاب میں خاص شکریات کی معمولی مقدار پائی جاتی ہے اور ان کی شناخت کرنے والا ایک نیا ٹیسٹ صرف 12 گھنٹوں میں اس مرض کی شناخت کرسکتا ہے۔ فوٹو: نیوسائنٹسٹ

ورجینیا:(تہلکہ ٹی وی) ہم جانتے ہیں کہ ٹی بی کے ٹیسٹ اب بھی بہت وقت لیتے ہیں لیکن امریکی ماہرین نے پیشاب کے ذریعے ٹی بی شناخت کرنے والا ایک ٹیسٹ وضع کرلیا ہے جس سے اس جان لیوا مرض کی فوری شناخت ممکن ہے۔ٹی بی اب تک دنیا کا ایک تکلیف دہ اور جان لیوا مرض بنا ہوا ہے جس کے زیادہ ترشکار غریب ممالک کے افراد ہورہے ہیں۔ دوسری جانب تپ دق کے سامنے ہماری دوائیوں کے ہتھیار بے کار ہوتے جارہے ہیں کیونکہ اس کے جراثیم بہت چالاکی سے خود کو بدل کر طاقتور ترین ادویہ کو بھی بے اثر بنارہے ہیں۔سال 2016 میں دنیا بھر میں ٹی بی کے ایک کروڑ سے زائد مریض نوٹ کیے گئے جبکہ ہر سال 17 لاکھ افراد اس موذی مرض کے ہاتھوں جان سے جارہے ہیں۔ 40 فیصد معاملات میں ٹی بی کا انفیکشن اس وقت سامنے نہیں آتا جب تک اس کی ظاہری علامات نمودار نہیں ہوجاتیں۔

اس وقت ٹی بی معلوم کرنے کا ایک طریقہ جلد کا ٹیسٹ ہوتا ہے یا پھر ممکنہ مریض کا بلغم لے کر اس میں بیکٹیریا دیکھے جاتے ہیں۔ ٹی بی کے ان دونوں طریقوں میں کئی دن لگتے ہیں جس کےلیے تربیت یافتہ خرد حیاتیات داں (مائیکرو بیالوجسٹ) کی ضرورت ہوتی ہے۔امریکی ریاست ورجینیا میں جارج میسن یونیورسٹی کی پروفیسر ایلی ساندرا لیوشینی اور ان کے ساتھیوں نے پیشاب کے ذریعے ٹی بی شناخت کرنے کا ایسا ٹیسٹ وضع کیا ہے جو صرف 12 گھنٹے میں نتائج دیتا ہے۔ یہ پیشاب میں موجود وہ شکریات (شوگرز) معلوم کرتا ہے جو ٹی بی کے بیکٹیریا سے جڑتی ہیں اور پیشاب میں ان کی انتہائی معمولی مقدار خارج ہوتی رہتی ہے۔اس ٹیسٹ کےلیے چھوٹے چھوٹے سالماتی پنجرے (مالیکیولر کیجز) بنائے گئے ہیں جن میں خاص رنگ (ڈائی) استعمال کیا گیا ہے۔ یہ دونوں مل کر شکر کے سالمات کو جکڑ لیتے ہیں اور یوں ٹی بی کا پتا چل جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ اتنا حساس ہے کہ پیشاب میں موجود ٹی بی سے وابستہ شکریات کی معمولی سی مقدار میں موجودگی کا انکشاف بھی کرتا ہے، اس طرح یہ پیشاب کے ذریعے ٹی بی کے بقیہ ٹیسٹ سے 1000 گنا بہتر ہے۔اگلے مرحلے میں اس ٹیسٹ کو ٹی بی کے 48 مریضوں پر آزمایا گیا تو اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے۔ اب ماہرین اس ٹیسٹ کو آسان اور کمرشل بنانے پر کام کررہے ہیں



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں