’ٹائیگر زندہ ہے‘ کے خلاف بھی بھارت میں مظاہروں کی دھمکی | Tehlka.tv

’ٹائیگر زندہ ہے‘ کے خلاف بھی بھارت میں مظاہروں کی دھمکی

بھارتی انتہا پسند تنظیم مہاراشٹرا نونرمن سینا (ایم این ایس) نے بولی وڈ اداکار سلمان خان کی جلد ریلیز ہونے والی فلم ’ٹائیگر زندہ ہے‘ پر بھی اعتراضات اٹھانا شروع کردیے۔

تہلکہ ٹٰی وی)ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایم این ایس نے فلم کے نمائش کنندہ کو خط کے ذریعے دھمکی دی کہ اگر سینما گھروں میں پرائم ٹائم ریلیز کا وقت مراٹھی فلم ’دیوا‘ کو بھی نہیں ملا تو وہ فلم ’ٹائیگر زندہ ہے‘ کے خلاف مظاہرے کریں گے، خیال رہے کہ یہ دونوں فلمیں ایک ہی دن یعنی 22 دسمبر کو ریلیز ہورہی ہیں۔پارٹی نے دھمکی دی ہے کہ اگر سینما گھروں میں صرف ’ٹائیگر زندہ ہے‘ کی اسکرینگ کی گئی اور ’دیوا‘ کو نظرانداز کیا گیا تو پارٹی کے کارکنان سینما گھروں کو جلادیں گے۔اس خط کے جواب میں سینما مالکان نے کہا کہ یش راج فلم پروڈکشن کی بڑے ٹکٹ کی فلم اپنے شیڈول کے حساب سے ریلیز ہوگی، جبکہ ممبئی کے سینما گھر کے منیجر کے مطابق سال کے آخر میں سلمان خان کی فلم کا ریلیز ہوتا سورج کی کرن جیسا ہے جسے ہٹانا ناممکن ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہندوستان میں موجود تمام اسٹارز میں سلمان خان کی فین فالوونگ بہت زیادہ ہے، اس لیے شروع کے تین دن ہمیشہ ہاؤس فل ہوتے ہیں‘۔

مینجر کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی بولی وڈ فلمیں خاصہ اچھا بزنس کرنے میں ناکام ہورہی ہیں، جس کا اثر سینما گھروں کی کمائی پر بھی پڑا۔انہوں نے بتایا کہ سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’پدماوتی‘ کو یکم دسمبر کو ریلیز ہونا تھا تاہم اس کی ریلیز بھی مؤخر ہوگئی۔دوسری جانب ایم این ایس کے میڈیا سیل سے تعلق رکھنے والی امیا کھوپکر نے یش راج بینر پر الزام عائد کیا کہ وہ سینما گھروں پر قبضہ کررہے ہیں جس کی وجہ سے مراٹھی فلموں کو ریلیز کے لیے اسکرینز کی تقسیم برابری سے نہیں مل رہی۔

خیال رہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا جب ایم این ایس نے بڑے بینر تلے بننے والی فلموں کے خلاف آواز اٹھائی ہو۔گزشتہ سال کرن جوہر کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کے خلاف بھی ایم این ایس نے خوب مظاہرے کیے جس کی وجہ فلم میں پاکستانی اداکار فواد خان کو کاسٹ کرنے کا فیصلہ تھا۔جبکہ شاہ رخ خان کو بھی اپنی فلم ’رئیس‘ میں ماہرہ خان کو کاسٹ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔حیران کن طور پر جب رواں سال سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’پدماوتی‘ کے خلاف ایک اور انتہا پسند تنظیم راجپوت کرنی سینا نے مظاہرے کیے تب مہاراشٹرا نونرمن سینا نے اس احتجاج کے خلاف آواز اٹھائی۔



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں