او جی ڈی سی ایل میں غیرقانونی بھرتیوں، جعلی ڈگریوں، 7 ارب کے غیرمعیاری کیمیکل کا انکشاف | Tehlka.tv

او جی ڈی سی ایل میں غیرقانونی بھرتیوں، جعلی ڈگریوں، 7 ارب کے غیرمعیاری کیمیکل کا انکشاف

اسلام آباد (تہلکہ نیوز) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا او جی ڈی سی ایل کی خیر پی کے میں ڈرلنگ کے دوران 7ارب 82 کروڑ روپے کا غیرمعیاری کیمیکل استعمال ہوا، پی اے سی نے ہدایت کی کہ ذمہ داروں کاتعین کیا جائے۔

اجلاس میں 170 ملازمین اور افسروں کے جعلی ڈگریون پر بھرتی ہونے کا انکشاف بھی ہوا۔ ایم ڈی او جی ڈی سی ایل نے جواب دیا 2015 میں او جی ڈی سی ایل کے کنوؤں کی کھدائی کیلئے 8لاکھ کیمیکل خریدے۔ روزانہ کیمیکل کی لیب ٹیسٹنگ کی جاتی ہے، غیرمعیاری کیمیکل پر کنٹریکٹر سے 3 لاکھ 50ہزار ڈالر ریکور کرلیے۔ کمیٹی ارکان نے پوچھا کیا قانون اجازت دیتا ہے غیرمعیاری مڈ کیمیکل کو جرمانہکرکے چھوڑ دیا جائے، کیا غیرمعیار ی کیمیکل کے استعمال کے بعد مطلوبہ نتائج مل سکتے ہیں کمیٹی ارکان کا سوال؟ او جی ڈی سی ایل حکام کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ غیرمعیار کیمیکل سے پیداواری صلاحیت پر فرق پڑتا ہے۔

آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ بغیر مقابلے کے او جی ڈی سی ایل میں بھرتیاں کی گئیں، غیرقانونی بھرتیوں سے 2015-16 میں قومی خزانے کو ایک ارب 43 کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا۔ کمیٹی ارکان نے کہا کہ غریب ملازمین کا معاملہ ہے اس کو نہ چھیڑا جائے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ او جی ڈی سی ایل کو کم از کم اس بات پر پابند کیا جائے کہ عارضی بھرتیاں نہ کرے، ایم ڈی سوئی نادرن نے انکشاف کیا کہ 1 ملین کیوبک فٹ گیس نارتھ سے نہیں آرہی جس کی وجہ سے گیس کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں وزارت پٹرولیم ڈویژن کے مالی سال 2016-17 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس مین آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ ایچ ڈی پی آئی نے اپنی ہی ایکٹ کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 37کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا، آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا پانچ برسوں میں سی این جی سٹیشنوں سے 48 کروڑ 28 لاکھ روپے سے زائد فیس کی مد میں وصول کئے جانے تھے مگر ان سے 11 کروڑ 27 لاکھ 20 ہزار روپے وصول کئے گئے، جس سے 37 کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا۔ چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے کہا کہ اس پر کوئی مقابلہ نہیں ہوا، اوگر اور وزارت مل کر پری کوالیفکیشن کرائے، کسی عام کمپنی کو دینے سے بہتر ہے معیار کمپنی کو پری کوالیفکیشن کے ذریعے کام کیا جائے، لگتا ہے شیئرز بانٹے جارہے ہیں۔



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں